Handmade quality · Free shipping over $75 · Explore the atelier

Kalam e Naram O Nazuk (Tanzia Mazamen) Persia draws the reader into the

SKU: 15319376422

4.4
USD300.00 USD327.00

Pay in 4 interest-free payments of $75.00 Learn more

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 29 - Aug 3

Description

draws the reader into the mood

ان خطوط کے مصنف کی یہ رائے ہے کہ تنقید کی یہ منطق صرف ادب ہی کے لیے نہیں، پورے سماج کے لیے ناگزیز ہے۔کسی سماج سے تنقیدی فکر کے خاتمے کا خواب ، اس سماج میں سیاسی ہی نہیں، سماجی آمریت قائم کرنے والا ہی دیکھ سکتا ہے۔ ادب کاخاموشی سے پڑھا جانا اور گاہے گاہےاس پر سرسری تاثر ، خود ادب اور ہمارے حق میں نہیں۔ ادب اور آرٹ جس نئی، تخیلی دنیا کو خلق کرتے ہیں، اسے اوّل خود سپردگی اور یکجائی کے گہرے احساسات کے ساتھ محسوس کیا جانا چاہیے، مگرپھر اسی دنیا سے ذرا فاصلہ اختیار کر کے، اس پر گہری نظر ڈال کر،اس پر تفصیل سے لکھا جانا چاہیے، تاکہ یہ دنیا، اپنے تمام تر، چھوٹے بڑے، حسین وقبیح ،معمولی و غیر معمولی امکانات و مضمرات کے ساتھ سامنے آسکے ۔ خود سپردگی اوریکجائی کے جذبات بہ یک وقت عاشقانہ اور متصوفانہ ہیں،یعنی اپنے اندر گہری، پر کیف خود فراموشی ، بہ رضا و رغبت کی خود سپردگی اور اسی بنا پر ایک نوع کی تقدیس رکھتے ہیں،اور اسی کا لاشعوری احساس کرتے ہوئے، کئی بار تنقید کو تخلیق کی تقدیس کے مقابلے میں ، دنیوی(profane) اور اسی بناپر حقیر اور غیر ضروری سرگرمی خیال کیا جاتاہےاور سخت ناپسند کیا جاتا ہے۔نیز کئی بارخود سپردگی و خود فراموشی کی اس عروجی کیفیت سے واپس آنے میں نہ صرف دقت ہوتی ہے ، بلکہ اس کے لیے جنت سےزمین پر پھینکے جانے کی تمثیل بھی استعمال کی جاتی ہے۔ دنیا اورعقل کی مخالفت کی ایک دلیل اسی ثنویت سے ماخوذ ہے۔اگر شاعری وفکشن ، انسانی اخترا ع و ایجاد نہ ہوتے،انھیں وجود میں لانے والا تخیل بشری خصائص کا حامل نہ ہوتااور شعرو فکشن انسانی زبان میں تاریخی وثقافتی طور پر وضع ہونے والی ہئیتوں میں نہ لکھے جاتے ، اور وہ ہماری ہی دنیا کو مخاطب نہ کرتےاور ہماری دنیا ، ان کی ایک ہیئت وپیرائے سے ایک طرح سے اور دوسری ہیئت وپیرائے سے دوسری طرح سے متاثر نہ ہوتی تو پھر تنقید بالکل غیر ضروری تھی۔تنقید ، تخلیق کو انسانی فہم کے مدار میں لے آتی ہےاور تخلیق کوہماری داخلی وخارجی دنیاؤں میں اپنا کردار ، اپنے جملہ امکانات کے ساتھ،ادا کرنے میں مدددیتی ہے۔وہ تخلیق کی تقدیس اور جنت کی نفی نہیں کرتی، انھیں ان کے اصل سیاق میں پیش کرتی ہے۔سب سے بڑھ کر وہ ہمیں یہ سوچنے پر مائل کرتی ہے کہ تقدیس اور دنیویت، جنت اور زمین یا تخیل وتعقل کو ایک دسرے کا ازلی حریف سمجھنے کے حاصلات کیا ہیں اور ان کے درمیان مکالمے کے مضمر ات کیا ہیں؟دنیا میں کسی بھی نوع کی جنگوں سے انسانیت کو کیا ملا ہے اورایک دوسرے کو ٹھنڈے دل سے سمجھنے سے کیا مل سکتا ہے؟ تنقید کے لیےاس مکھی کی تمثیل بے جا ہے جو گھوڑے کو پریشان کرتی ہے، اس کے لیے اگر کوئی تمثیل موز وں ہوسکتی ہے تو وہ اس سائیس کی ہے جو گھوڑے میں چھپے فنکار کو پہچانتا ہے اور اسے اپنے فن کو دنیا کے سامنے لانے میں مدددیتااور سب سے پہلے سراہتا ہے۔کیوں کہ سائیسی علم دریاؤ ہے۔ بایں ہمہ یہ دعویٰ ہر گز نہیں کہ ان خطوط میں تنقید کے سب مسائل آگئے ہیں۔

Number of Pages: 361

and a First Class First Bachelor of Science from Punjab University

ISBN: 9693532856

Kalam e Naram O Nazuk (Tanzia Mazamen) Persia draws the reader into theWriter: Dr. Saleem Akhtar Category: Urdu Adab Pages: 336

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products